نئی دہلی،24؍دسمبر(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی ) اتر پردیش میں بی ایس پی اور ایس پی کے اتحاد میں کانگریس کو جگہ نہیں دیے جانے کی خبروں کے درمیان کانگریس کے سینئرلیڈر سلمان خورشید نے اتوار کو کہا کہ اگر ان کی پارٹی کو اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا تو قومی سطح پر بی جے پی مخالف مورچہ کمزور ہوگا اور اس سے ’پیدا ہوتے ہی مٹ جانے‘جیسی صورت حال پیداہوسکتی ہے۔خورشید نے کہا کہ اتر پردیش میں مہاگٹھ بندھن کا ساتھ دینا تمام اپوزیشن جماعتوں کے لیے سب سے زیادہ پیچیدہ کوشش ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے قبل کانگریس، بی ایس پی، ایس پی اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی)کے لئے ایک مشکل کام ہے۔اترپردیش کانگریس کے سابق سربراہ نے کہا کہ ریاست میں عدم استحکام جیسے حالات ہیں اور پارٹی سربراہ راہل گاندھی 2019کے عام انتخابات میں اتحاد کے لیے کھلے دل و دماغ کے ساتھ پر امید نظریہ رکھے ہوئے ہیں،اگرچہ 65سالہ رہنما نے ریاست میں اتحادی ہونے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ یہ ہندوستانی سیاست کے لیے اچھا ہوگا۔سابق وزیر نے کہا کہ ہم سب کو کہیں نہ کہیں سمجھوتہ کرناہوگا اورصرف لینے ۔لینے یادینے ۔دینے سے بات نہیں بنے گی۔اگر چاروں جماعتوں کے درمیان لین دین صحیح رہاتوہم بی جے پی سے اچھی طرح سے لڑسکیں گے،اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ ایک تاریخی نقصان ہوگا۔خورشید کا یہ بیان خبروں میں کئے گئے ان دعووں کے درمیان آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بی ایس پی اور ایس پی کانگریس کے بغیر لوک سبھا انتخابات کے لیے اتحاد کو تیار ہیں۔کانگریس نے ان رپورٹس کو افواہ بتاکر مسترد کردیا ہے۔بی ایس پی نے بھی ان دعوی کو مسترد کردیا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ حال ہی میں ہندی پٹی کی ریاستوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں ملی جیت کے بعد کانگریس کو اتر پردیش میں کیا امیدیں ہیں؟ خورشید نے کہا کہ اتر پردیش کی صورت حال مختلف ہے کیونکہ یہاں پارٹی طویل وقت سے اقتدار سے باہر ہے۔